کاروار 10/ اکتوبر (ایس او نیوز) امسال بارش کم ہونے کی وجہ سے آبی ذخیروں میں ضروری مقدار میں پانی جمع نہیں ہو سکا جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور اس سے نپٹنے کے لئے ابھی سے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے کالی، شراوتی، تنگ بھدرا، کرشنا، کاویری جیسے آبی ذخیروں سے بجلی پیدا کرنے کے لئے پانی فراہم ہوتا ہے۔ لیکن امسال بارش کی کمی سے بہت سے ذخیروں میں پانی کی مقدار کم سے کم والی سطح پر رک گئی ہے اور اس وقت جو پانی موجود ہے وہ ضرورت کے مطابق مقدار میں نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مراکز میں بجلی کی پیداوار روک دی گئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں جس مقدار میں بجلی کی پیداوار ہوتی تھی اس میں 50 فی صد کی کمی ہوگئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ریاست کے کئی مقامات پر ابھی شہری اور دیہی علاقوں وقت میں بے وقت لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں دن میں 10 تا 14 گھنٹے بجلی منقطع کی جاتی ہے اور رات کے وقت ہر دس پندرہ منٹ کے بعد بجلی کاٹ دی جاتی ہے۔
اس مرتبہ موسم میں آئی تبدیلی اور برسات کی قلت ایک طرف ہے تو دوسری طرف ہوا میں غیر معمولی انداز میں بڑھتی ہوئی حدت نے عام لوگوں کو پریشان کر دیا ہے ۔ خاص کر ساحلی علاقے میں سورج کی تمازت اور رطوبت اتنی ہے کہ ذرا سی تیز دھوپ میں لوگوں کے لئے گھر سے باہر نکلنا مشکل محسوس ہوتا ہے ۔ ایسے میں اب لوگوں کو یہ تشویش ہونے لگی ہے کہ گرمی کے موسم میں دن گزارنا کتنا دشوار ہوگا جبکہ بجلی کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بھی اپنے عروج پر ہوگا ۔
جانکاروں کا کہنا ہے کہ ایسی حالت میں بجلی کی کمی پورا کرنے کے لئے پڑوسی ریاستوں یا پرائیویٹ کمپنیوں سے بجلی خریدنے کے سوا ریاستی حکومت کے پاس دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ لیکن اس میں بھی ایک بڑی مشکل سرکاری خزانہ میں فنڈ کی کمی ہو سکتی ہے کیونکہ انتخابی وعدے کے مطابق پانچ گارنٹیوں کو پورا کرنے میں ہی سرکاری خزانہ پر بہت بڑا بوجھ پہلے سے ہی موجود ہے ۔ ایسے میں دوسری جگہ سے بجلی خریدنے میں مزید کروڑہا کروڑ روپیوں کی ضرورت ہوگی اور اگر حکومت اس کے لئے فنڈ خرچ نہیں کر پاتی تو پھر گرمی کے موسم میں عوام کا جینا دشوار ہونا یقینی ہے۔